-
A. خواہش نہ کرنا
-
B. فحش گوئی نہ کرنا
-
C. سرکشی نہ کرنا
-
D. ان میں سے کوئی نہیں
Explanation
لا تطغوا عربی عبارت ہے جس کا مطلب ہے: "سرکشی نہ کرو" یا حد سے تجاوز نہ کرو۔
یہ لفظ قرآن مجید میں بار بار ان قوموں کو تنبیہ کے طور پر آیا ہے جو اللہ کے احکامات سے انحراف کرتی تھیں۔
-
A. نماز میں خشوع
-
B. شرمگاہوں کی حفاظت
-
C. زکوٰۃ کی ادائیگی
-
D. ان میں سے کوئی نہیں
Explanation
سورۃ المؤمنون کی دوسری آیت ہے
"الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ"
اس میں مؤمنوں کی صفت نماز میں خشوع یعنی عاجزی اور توجہ سے نماز پڑھنا بیان کی گئی ہے۔
-
A. کہانیاں
-
B. حق
-
C. ان میں سے کوئی نہیں
-
D. افسانہ
Explanation
قرآن مجید حق لے کر نازل ہوا، جو سچائی اور ہدایت پر مبنی ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو انسانوں کو صحیح راستہ دکھانے کے لیے نازل ہوا۔
-
A. سیکھا ـ سکھایا
-
B. پڑھا ـ یاد کیا
-
C. پڑھایا ـ سنایا
-
D. ان میں سے کوئی نہیں
Explanation
حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: "تم میں بہتر وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور سکھایا"۔
یہ علمِ قرآن کی اہمیت اور دوسروں تک پہنچانے کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے۔
-
A. آسماں سے
-
B. اللہ تعالیٰ کی طرف سے
-
C. ان میں سے کوئی نہیں
-
D. عرش سے
Explanation
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا۔
یہ ہدایت کی کتاب ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے ذریعے نازل ہوئی۔
-
A. سورۃ البقرہ
-
B. سورۃ الاسراء
-
C. ان میں سے کوئی نہیں
-
D. سورۃ النساء
Explanation
آیت: وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
ترجمہ: اور کہہ دو کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے۔
یہ آیت سورۃ الاسراء (بنی اسرائیل)، آیت نمبر 81 میں موجود ہے۔
-
A. حضرت عثمان رضی اللہ عنہ
-
B. حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ
-
C. حضرت عمر رضی اللہ عنہ
-
D. ان میں سے کوئی نہیں
Explanation
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کی مکمل تدوین اور یکسان نسخوں کی تیاری کی۔
انہوں نے قرآن کے مختلف نسخوں کو یکجا کر کے ایک مکمل نسخہ تیار کیا، جو آج تک محفوظ ہے۔
-
A. ان میں سے کوئی نہیں
-
B. حضرت ابوبکر صدیق رضہ
-
C. حضرت زید بن ثابت رضہ
-
D. حضرت زید بن حارثہ رضہ
Explanation
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تدوینِ قرآن کمیٹی کے چیئرمین تھے، جنہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں یہ ذمہ داری سونپی گئی۔
وہ کاتبِ وحی بھی تھے اور قرآن کو تحریری شکل میں جمع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
-
A. حضرت حفصہ رضہ
-
B. حضرت سلمہ رضہ
-
C. حضرت ام کلثوم رضہ
-
D. حضرت عائشہ رضہ
Explanation
خلافتِ ابوبکرؓ میں قرآن کو جمع کر کے ایک مصحف بنایا گیا، اور خلافتِ عمرؓ کے بعد یہ نسخہ حضرت حفصہؓ (زوجۂ رسول و بیٹی حضرت عمرؓ) کے پاس محفوظ رہا۔
خلافتِ عثمانؓ میں اسی نسخے کی بنیاد پر دیگر مصاحف تیار کیے گئے۔
-
A. حضرت ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا
-
B. حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا
-
C. حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا
-
D. حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا
Explanation
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں قرآنِ مجید کی کئی مستند نقول تیار کروائیں۔
ان نسخوں کو مختلف صوبائی دارالحکومتوں میں بھیجا تاکہ امت میں یکسانیت برقرار رہے۔
✅ Correct: 0 |
❌ Wrong: 0 |
📊 Total Attempted: 0